Islamic Moral Stories in Urdu || Islamic Moral Stories for Kids || Islamic Stories in Urdu


 دکان دار اور عورت کی کہانی


گاہک نے دکان میں داخل ہو کر دوکاندار سے پوچھا کیلوں کا کیا بھاؤ لگایا ہے؟ دکاندار نے جواب دیا:

کیلئے 12 درہم اور سیب 10 درہم۔

اتنے میں ایک عورت بھی دکان میں داخل ہوئی اور کہا: مجھے ایک کلو کیلے چاہیں، کیا بھاؤ ہے؟ دکاندار نے کہا: کیلے 3 درہم اور سیب 2 درہم۔ عورت نے الحمد للہ پڑھا۔

دکان میں پہلے سے موجود گاہک نے کھا جانے والی غضبناک نظروں سے دکاندار کو دیکھا، اس سے پہلے کہ کچھ اول فول کہتا دکاندار نے گاہک کو آنکھ مارتے ہوئے تھوڑا انتظار کرنے کو کہا۔

عورت خریداری کر کے خوشی خوشی دکان سے نکلتے ہوئے بولی اللہ  تیرا شکر ہے، میرے بچے انہیں کھا کر بہت خوش ہوگئے۔

عورت کے جانے کے بعد، دکاندار نے پہلے سے موجود گا ہک کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا اللہ گواہ  ہے، میں نے تجھے کوئی دھوکا دینے کی کوشش نہیں کی۔

به صورت چار یتیم بچوں کی ماں ہے۔ کسی سے بھی کسی قسم کی مدد لینے کو تیار نہیں ہے۔ میں نے کئی بار کوشش کی ہے اور ہر بارنا کامی ہوئی ہے۔ اب مجھے یہی طریقہ سوجھا ہے کہ جب کبھی آئے تو اسے کم سے کم دام کا کو چیز دیدوں۔ میں چاہتا ہوں کہ اس کا بھرم قائم رہے اور اسے گئے کہ وہ کسی کی محتاج نہیں ہے۔ میں یہ تجارت

اللہ کے ساتھ کرتا ہوں اور اس کی رضا و خوشنودی کا طالب ہوں۔

دکاندار کہنے لگا۔ یہ عورت اپنے میں ایک بار آتی ہے۔ اللہ گواہ ہے جس دن یہ آ جائے ، اس دن میری بکری بڑھ جاتی ہے اور اللہ کے نہیں خزانے سے منافع دو چند ہوتا ہے۔

کا پک کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ، اس نے بڑھ کر دکاندار کے سر پر بوسہ دیتے ہوئے کہا: بخدا لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں جولذت ملتی ہے اسے وہی جان سکتا ہے جس نے آزمایا ہو۔

FOR MORE STORIES